انکاؤنٹروالی سرکارمیں مجرموں کی جگہ ہرعورت دہشت زدہ،اکھلیش یادونے گھیرا
لکھنؤ،09؍اپریل(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) بی جے پی ممبر اسمبلی کلدیپ سینگر پر عصمت دری کا الزام لگانے اور وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب خودکشی کی کوشش کرنے والی لڑکی کے جیل میں بند والد کی مشتبہ حالات میں موت ہوگئی۔متاثرہ فریق نے رکن اسمبلی پر جیل میں قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ معاملے کی مجسٹریٹ سے جانچ کرائی جائے گی اور مجرم کوئی بھی ہو، بخشا نہیں جائے گا۔اس معاملے میں چار نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔وہیں لاپرواہی برتنے کے الزام میں متعلقہ تھانہ انچارج سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع نے آج بتایا کہ بی جے پی ممبر اسمبلی سینگر پر عصمت دری کا الزام لگانے والی ماکھی تھانہ علاقہ کی لڑکی کے باپ کو اتوار کی رات جیل میں پیٹ میں درد کے ساتھ خون کی الٹیاں شروع ہوئی تھیں۔اس پر اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل کرایا گیا۔مگر صبح تقریباََتین بجے اس کی موت ہو گئی۔اس کی عمر تقریبا 50 سال تھی۔میت کے لواحقین نے عصمت دری کے ملزم بانگرمؤ سے بی جے پی ممبر اسمبلی سینگر پر جیل میں قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ان کا الزام ہے کہ مقدمہ واپس نہ لینے پر گذشتہ تین اپریل کو ممبر اسمبلی کے بھائی اتل سنگھ نے متاثرہ کے والد کو ماراپیٹا تھا۔شدید زخمی ہونے کے بعد ماکھی تھانے میں مقدمے کی تحریر دینے گیا تو پولیس نے پانچ اپریل کو اسی کے خلاف اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے جیل بھیج دیا۔یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے مقدمے میں رکن اسمبلی کے بھائی کا نام نکال کر دیگر چار ملزمان کو نامزد کردیا۔دریں اثنا ریاستی حکومت کے ترجمان وزیر توانائی سری کانت شرما نے بتایا کہ متاثرہ فریق کا الزام اگر صحیح ہے تو یہ واقعہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے۔معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ یقینی کرانے کیلئے تفتیش کے لیے اناؤ سے لکھنؤ ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔انہوں نے متاثرہ فریق کے تئیں پوری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت انصاف دلانے کے لیے کوشاں ہے۔معاملے کی مجسٹریٹ سے تحقیقات کا حکم دیئے گئے ہیں۔پولیس ڈائریکٹر جنرل پی سنگھ نے کہا کہ معاملے کی جانچ کے لیے لکھنؤ پولیس کی ایک ٹیم قائم کی گئی ہے۔جو بھی قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ادھر اناؤ کی پولیس سپرنٹنڈنٹ پشپاانجلی نے بتایا کہ کیس کے چار نامزد ملزمان سونو، بوا،ونیت اور شیلو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔وہیں ماکھی کے تھانہ انچارج اشوک کمار سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو غفلت برتنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے۔ضلع مجسٹریٹ روی کمارا ینجی نے کہا کہ جب دونوں اطراف کی جانب سے مقدمہ درج کرایا گیا تھا تو ایک فریق کو ہی جیل کیوں بھیجا گیا، اس کی جانچ کرائی جائے گی۔ساتھ ہی میت کا ڈاکٹروں کے پینل سے پوسٹ مار ٹم کرانے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ایس پی صدر اکھلیش یادو نے اس معاملے پر ٹویٹ کے ذریعے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کہیں کوچنگ کی طالبہ کا سرعام گولی مار کر قتل ہو رہا ہے، تو کہیں بی جے پی ممبر اسمبلی پر آبروریزی کا الزام لگانے والی عورت حکومت سے مایوس ہو کر وزیراعلیٰ رہائش گاہ پر خود کشی کر رہی ہے۔کیا یہی ہے ’انکاؤنٹر والی‘حکومت کا خوف کہ مجرموں کی جگہ آج عورت دہشت زدہ ہو رہی ہے۔